حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عیدِ غدیر اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جسے دینِ اسلام کی تکمیل اور نعمتِ الٰہی کے اتمام کا دن قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے قیادت، ولایت، اتحاد اور ہدایت کا دائمی پیغام بھی ہے۔ آج کے دور میں جبکہ امت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، غدیر کے پیغام کو صحیح انداز میں سمجھنے اور پیش کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
عیدِ غدیر کی اہمیت، اس کے دینی و سماجی پہلوؤں، امتِ مسلمہ کے اتحاد میں اس کے کردار اور عصر حاضر میں اس کے پیغام کی ضرورت کے حوالے سے حوزہ نیوز ایجنسی نے شہر پونہ سے مہاراشٹر شیعہ علماء بورڈ کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد اسلم رضوی سے خصوصی گفتگو کی۔ پیش ہیں اس انٹرویو کے اہم اقتباسات:
حوزہ: عید غدیر کی اہمیت اور عظمت کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ نیز عید غدیر کے موقع پر ہمیں کن امور پر خصوصی توجہ دینی چاہیے؟
مولانا سید محمد اسلم رضوی:
عید غدیر وہ عظیم عید ہے جسے احادیث میں "عید اکبر" اور "عید اللہ الاکبر" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ سن 10 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری حج، حجۃ الوداع، سے واپسی کے موقع پر غدیر خم کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت و جانشینی کا اعلان کیا گیا۔ قرآن کریم نے بھی اس اعلان کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور بتایا کہ یہ پیغام درحقیقت وحیِ الٰہی کا پیغام تھا۔
اسی دن دین کامل ہوا، نعمت الٰہی تمام ہوئی اور امت کی ہدایت کا راستہ واضح کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس عید کو تمام عیدوں سے برتر قرار دیا گیا ہے۔
عید غدیر کے اعمال میں تین اہم پہلو نمایاں ہیں۔ پہلا پہلو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا ہے، جس کے لیے نماز، دعا، زیارت اور دیگر عبادات کی تاکید کی گئی ہے۔
دوسرا پہلو بندگانِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کا ہے۔ اس دن غریبوں، محتاجوں اور پریشان حال افراد کی مدد کرنا، انہیں کھانا کھلانا اور ان کی مالی معاونت کرنا بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
تیسرا پہلو ذاتی خوشی اور مسرت کا اظہار ہے۔ روایات میں غسل کرنا، اچھے اور نئے لباس پہننا اور خوشی منانا مستحب قرار دیا گیا ہے۔ گویا انسان خود بھی خوشی منائے اور دوسروں کی خوشی کا بھی سبب بنے۔
حوزہ: موجودہ دور میں عید غدیر امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے کس طرح مؤثر ثابت ہو سکتی ہے؟
مولانا سید محمد اسلم رضوی:
اگر ہم حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کو امت کے مشترکہ سرمایہ کے طور پر پیش کریں تو غدیر اتحادِ امت کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ اعلانِ غدیر کے بعد متعدد جلیل القدر صحابہ نے حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد پیش کی۔ یہ بات صرف شیعہ منابع میں نہیں بلکہ اہل سنت کی متعدد معتبر کتابوں میں بھی مذکور ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء اور خطباء غدیر کو اختلاف کے بجائے مشترکہ تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کریں۔ جب ہم اس پہلو کو اجاگر کریں گے تو اہل سنت بھائی بھی غدیر کے پیغام کے زیادہ قریب آئیں گے اور امت کے درمیان محبت اور ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔
حوزہ: واقعۂ غدیر کے اثبات میں حارث بن نعمان فہری کا واقعہ کس قدر اہمیت رکھتا ہے؟
مولانا سید محمد اسلم رضوی:
واقعۂ حارث بن نعمان فہری غدیر کی اہمیت کو واضح کرنے والے واقعات میں سے ایک ہے۔ متعدد تفاسیر میں نقل ہوا ہے کہ اس نے بغض و حسد کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا یہ اعلان خدا کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے عذاب نازل ہو۔ روایت کے مطابق اس کے فوراً بعد اس پر عذاب نازل ہوا۔
اس واقعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اعلانِ ولایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔ پروردگار عالم نے مختلف طریقوں سے اس حقیقت کو لوگوں پر آشکار کیا تاکہ کوئی شخص اسے محض ذاتی یا خاندانی معاملہ قرار نہ دے سکے۔
حوزہ: آپ کے نزدیک آج کے دور میں غدیر کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟
مولانا سید محمد اسلم رضوی:
غدیر کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیر معمولی اہتمام کیا گیا۔ آیۂ تبلیغ نازل ہوئی، اعلانِ ولایت انجام پایا، پھر آیۂ اکمال نازل ہوئی اور دین کے کامل ہونے کا اعلان کیا گیا۔ اتنے عظیم اہتمام کے باوجود اگر ہم غدیر کے پیغام کو دنیا تک نہ پہنچائیں تو یہ ہماری کوتاہی ہوگی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غدیر کے حقیقی پیغام، یعنی ولایت، عدالت، قیادت اور امت کے اتحاد کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر ہم اس پیغام کو صحیح انداز میں عام کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اتحاد بین المسلمین مزید مضبوط ہوگا اور امت کو درپیش بہت سے مسائل کے حل کی راہیں ہموار ہوں گی۔









آپ کا تبصرہ